وائٹ ہاؤس: امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں سویلینز اور غیر ملکی فلاحی کارکنان کا تحفظ یقینی بناؤ یا پھر حماس کے جنگجوؤں کے خلاف اسرائیلی جنگ میں امریکی سپورٹ سے محروم ہونے کیلئے تیار ہو جاؤ۔اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ہزاروں شہریوں کی شہادتوں کے بعد بلآخر ورلڈ سینٹرل کچن کے کارکنان کی شہادتوں پر اٹھنے والے غم و غصے کے بعد امریکا نے اسرائیل سے اپنی فوجی حکمت عملی تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم پر عام شہریوں کے نقصانات روکنے ، انسانی بحران سے نمٹنے اور فلاحی کارکنان کے تحفظ کیلئے سیریز میں مخصوص اور قابل پیمائش اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔
بیان کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر واضح کردیا ہے کہ غزہ سے متعلق امریکی پالیسی کا دارو مدار ہمارے بتائے ہوئے اقدامات پر اسرائیلی عمل درآمد کے ہمارے جائزے سے مشروط ہوگا۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ اپنے مذاکرات کاروں کو مزید اختیار دے کہ وہ بلا تاخیر ڈیل کو کسی نتیجے پر پہنچا سکیں۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اس سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم پر واضح کیا کہ میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر ہمیں وہ تبدیلیاں نظر نہیں آتیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو غزہ سے متعلق امریکی پالیسیوں میں تبدیلیاں نظر آجائیں گی۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر سے ٹیلی فونک رابطے کے چند گھنٹوں بعد اسرائیلی حکومت نے غزہ میں امداد کی رسد بڑھانے کیلئے چند اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے اردن سے غزہ میں امداد پہنچانے کیلئے اشدود پورٹ اور شمالی غزہ سے ایریز کراسنگ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امدادی سامان کی رسد بڑھانے کیلئے کیے گئے اقدامات امریکا کو راضی کرنے کیلئے کتنے کافی ہو سکیں گے یہ بات ابھی واضح نہیں ہے۔
غزہ میں غیر ملکی فلاحی ادارے کے 7 کارکنوں کی ہلاکت پر متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تمام سفارتی رابطے معطل کر دیے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل میں تعینات اماراتی سفیر محمد الخواجہ نے اس حوالے سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ امدادی کارکنوں کی ہلاکت سیاہ ترین دن ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اردن کے شاہ عبداللہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔سعودی عرب اور اردن کے رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر مسئلہ فلسطین کا سیاسی حل تلاش کرنے ضرورت ہے۔
ادھر اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے مسلم رہنماؤں اور سفارتکاروں کیلئےافطار ڈنر کا اہتمام کیا جس میں اسرائیل میں تعینات اماراتی سفیر محمد الخواجہ بھی شریک ہوئے۔
شمالی اسرائیلی شہر ناصرات کے مسلم عرب رہنما علی سالم بھی افطار ڈنر میں شریک ہوئے اور انہوں نے اسرائیل سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ کی شمالی سرحد کھولنے کی منظوری دے دی۔اسرائیل نے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد پہلی بار شمالی سرحد کھولنے کی منظوری دی ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے اشدود بندرگاہ کو بھی استعمال کرنے کی منظوری دیدی۔امریکی میڈیا کے مطابق اشدود بندرگاہ کھلنے سے غزہ میں مزید انسانی امداد داخل ہو سکے گی۔