Nijat News
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ
  • رازداری کی پالیسی
  • Contact
Reading: نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست: عمران خان کو بذریعہ وڈیولنک پیش ہونے کی اجازت
Share
Nijat NewsNijat News
Font ResizerAa
Search
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ
  • رازداری کی پالیسی
  • Contact
Follow US
© 2022 Nijat News. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
Nijat News > پاکستان > نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست: عمران خان کو بذریعہ وڈیولنک پیش ہونے کی اجازت
پاکستان

نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست: عمران خان کو بذریعہ وڈیولنک پیش ہونے کی اجازت

Published May 14, 2024
Tags: Featured بعد ازاں 17 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف کرپشن کیسز بحال کردیے جب کہ نیب مخدوم علی خان نے جسٹس اطہر من اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یادداشت بہت شاندار ہے
Share
SHARE

(ویب ڈیسک): سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے خلاف سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کو بذریعہ وڈیولنک پیش ہونے کی اجازت دے دی۔ڈان نیوز کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے، بینچ میں جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے میں پٹیشنر عمران خان ذاتی حیثیت میں پیش ہونا چاہتے ہیں تو ان کو یہاں پیش کیا جانا چاہیے، وہ اس مقدمے میں ایک فریق ہیں ہم ان کو پیش ہونے کے حق سے کیسے روک سکتے ہیں، یہ نیب کا معاملہ ہے اور ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ان کا حق ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آئین سے متعلق معاملہ ہے، کسی کے ذاتی حقوق کا معاملہ نہیں، ایک بندہ جو وکیل بھی نہیں وہ ہمیں کیسے معاونت فراہم کر سکتا ہے؟ ہمارا آرڈر تھا کہ وہ اپنے وکیل کے ذریعے سے دلائل دے سکتے ہیں، ہم پانچ منٹ کے لیے سماعت ملتوی کر کے اس پر مشاورت کر لیتے ہیں۔

وقفے کے بعد سماعت کے دوبارہ آغاز پر سپریم کورٹ نے عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دے دی۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کے انتظامات کیے جائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بڑی عجیب صورتحال ہے کہ عمران خان جو اس مقدمے میں درخواست گزار تھے اور اب اپیل میں فریق ہیں ان کی یہاں پر نمائندگی نہیں، بانی تحریک انصاف اگر دلائل دینا چاہیں تو ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دے سکتے ہیں، ان کے ویڈیو لنک کے زریعے دلائل دینے کا بندوبست کیا جائے۔

چیف جسٹس نے عدالتی عملے سے استفسار کیا کہ کتنے وقت تک ویڈیو لنک کا بندوبست ہو جائے گا۔اٹارنی جنرل نے ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کر دی۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کو پرسوں عمران خان کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کے انتظامات کرنے کی ہدایت کردی۔

بعد ازاں جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ میری رائے میں اس معاملے میں لارجر بینچ بننا چاہیے، ہائی کورٹس میں نیب قانون کے خلاف آئین ہونے سے متعلق درخواستیں زیر التوا ہیں، اس معاملے میں ہم ایک مقدمے کو ہمیشہ نظر انداز کرتے ہیں اور وہ ہے بینظیر بھٹو کیس، بینظیر بھٹو مقدمے کی رو سے وفاقی حکومت کی اپیل ناقابل سماعت ہے، عدالت متاثرہ فریق کی تشریح کر چکی ہے کہ حکومت متاثرہ فریق نہیں ہوسکتی۔

جسٹس اطہر من اللہ کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 184کی شق تین کے تحت کوئی درخواست قابل ہی نہیں ہو سکتی جب کوئی درخواست ہائی کورٹ میں زیر التوا ہو۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ میں اس آبزرویشن پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، دوران سماعت بینچ کی تشکیل پر پریکٹس اینڈ پروسیجر کے تحت قائم نہ ہونے کا اعتراض کیا تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ لارجر بینچ کی تشکیل کی استدعا کس بنیاد پر کی تھی یہ آئینی تشریح کا کیس تو نہیں تھا، مخدوم علی خان نے بتایا کہ درخواستوں میں ترامیم کو آئین سے متصادم ہونے کی استدعا کی گئی تھی۔

اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایک مسئلہ درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا بھی تھا، سپریم کورٹ کا 11 رکنی بینچ ماضی میں ایسی درخواستوں پر فیصلہ دے چکا ہے، بینظیر بھٹو کیس کا فیصلہ اس موجودہ بینچ پر بھی لاگو ہوگا، الیکشن کیس میں بھی یہی اعتراض کیا گیا تھا، میری نظر میں بانی پی ٹی آئی کی درخواستیں ناقابل سماعت نہیں تھیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ اگر الیکشن کی تاخیر چاہنے والے ہر ہائی کورٹ سے رجوع کریں اور انتخابات چاہنے والے سپریم کورٹ سے تو کیا ہوگا؟ اگر سپریم کورٹ کہے ہائی کورٹس کو فیصلہ کرنے دیں تو تاخیر ویسے ہی ہوگئی۔

چیف جسٹس فائز عیسی نے مزید کہا کہ جس کے خلاف بھی فیصلہ ہو اسے اپیل کا حق ہوتا ہے،جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ کسٹمز ایکٹ کیس میں عدالت قرار دے چکی کہ کوئی محکمہ متاثرہ فریق نہیں ہوسکتا۔

اس موقع پر مخدوم علی خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کسٹمز کے کیس میں اپیل ایک افسر نے دائر کی تھی، کیا وفاق کو کوئی حق نہیں کہ اپنے بنائے ہوئے قانون کا دفاع کر سکے؟ نیب ترامیم سے بانی پی ٹی آئی کو کوئی ذاتی نقصان نہیں ہوا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مناسب ہوگا آپ اپنے بنیادی نکات ہمیں لکھوا دیں، بنیادی نکات عدالتی حکم کے ذریعے عمران تک پہنچ جائیں گے تاکہ وہ جواب دے سکیں، اس وقت بانی پی ٹی آئی آپ کے دلائل نہیں سن رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں قانونی شقوں کا معاملہ ہے، اگر ہم خود کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے۔

بعد ازاں وفاقی حکومت کے وکیل نے جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ پڑھنا شروع کردیا۔

اس موقع پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا نیب ترامیم میں آئینی شق کی تشریح کا سوال تھا؟ وکیل وفاقی حکومت نے جواب دیا کہ نیب ترامیم کو آئین کے تحت جانچنے کا سوال تھا۔

بعد ازاں مخدوم علی خان نے کہا کہ مرکزی درخواست گزار نے خود جو کہا اس کے الفاظ دیکھیں،پی ٹی آئی دور میں ترامیم دو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی گئیں، بعد میں اتحادی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی گئی ترامیم کو برقرار رکھا، اس درخواست کا ڈرافت کس نے تیار کیا تھا، 2021میں پی ٹی آئی میں کی گئی ترامیم کو خلاف آئین قرار دیا گیا،

مخدوم علی خان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے جو ترامیم کیں ان کا اطلاق 1985 سے کیا گیا، چیف جسٹس پاکستان نے دریافت کیا کہ کیا ہم خواجہ حارث کو دلائل دینے کے لیے مجبور کر سکتے ہیں؟

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کیا جاسکتا ہے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے بتایا کہ عدالتی معاون غیر جانبدار ہوتا ہے، وہ وکیل جو کسی فریق کا وکیل رہ چکا ہو اسے عدالتی معاون مقرر نہیں کیا جاسکتا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے جب آرڈیننس آئے تو اس وقت کی حکومت اور عمران خان نے ان ترامیم کو سپورٹ کیا، اس وقت کہا گیا کہ نیب کی وجہ سے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

مخدوم علی خان نے جسٹس اطہر من اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یادداشت بہت شاندار ہے، پی ٹی آئی حکومت کے وزیر قانون اور وزیر خزانہ نیب کیخلاف بیانات دیتے رہے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 15 ستمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی نیب ترامیم کے خلاف دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کئی شقیں کالعدم قرار دے دے دی تھیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف کرپشن کیسز بحال کردیے جب کہ نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔

فیصلے کے مطابق صرف کیسز نہیں، انکوائریز اور انویسٹی گیشنز بھی بحال کردی گئی تھیں، فیصلے میں نیب عدالتوں سے ترمیم کے بعد کالعدم قرار دیے گئے کیسز بھی بحال کردیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کے ختم کیے گئے ‏تمام مقدمات کو احتساب عدالتوں میں ایک ہفتے کے اندر دوبارہ لگایا جائے۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کارروائی کرے، آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی، پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔

فیصلے میں احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیے گئے تھے۔

بعد ازاں 17 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کو غیر قانونی قرار دینے والی نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 15 ستمبر کے فیصلے کو چیلنج کردیا تھا۔

درخواست میں عدالت سے نیب ترامیم کو بحال کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا گیا کہ نیب ترامیم میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی گئی اور قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے۔

اپیل میں فیڈریشن، نیب اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پارلیمانی اختیار سے متجاوز ہے۔

TAGGED:Featuredبعد ازاں 17 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او)سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف کرپشن کیسز بحال کردیے جب کہ نیبمخدوم علی خان نے جسٹس اطہر من اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یادداشت بہت شاندار ہے
Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article ممبئی: طوفان کی شدت سے بل بورڈ گرگیا، 14 افراد ہلاک، 74 زخمی
Next Article کراچی میں درندوں کا راج: ایک اور 7سالہ معصوم بچی سے جنسی زیادتی اور تشدد
Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پاپولر

’فیفا ورلڈ کپ 2022‘ کا آفیشل گانا ’لائٹ دی اسکائے‘ ریلیز

فیڈریشن انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن‘ (فیفا) کے عالمی ورلڈ…

October 8, 2022
سونے کے سکّے دینے والی آٹو میٹڈ ٹیلر مشین

بھارت میں سونے کے سکے نکالنے والی پہلی ’اے ٹی ایم‘ متعارف

بھارت میں پہلی بار سونے کے سکّے دینے والی آٹو…

December 15, 2022
Imran Khan Speech

جنرل باجوہ کے NRO II میں تما گندے عناصر کو “ڈرائی کلین” کر دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان…

December 15, 2022

خاص آپ کے لیے

انٹرٹینمنٹ

کوریا کی مشہور گلوکارہ کنسرٹ میں پرفارمنس سے قبل چل بسیں

گمچیون - جنوبی کوریا (شوبز ڈیسک): جنوبی کوریا کی مشہور گلوکارہ لی سانگ یون پرفارمنس سے چل بسیں۔میڈیا رپورٹس کے…

July 8, 2023
پاکستان

وزیراعظم نے 26ویں آئینی ترمیم کی توثیق کیلیے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی

(ویب ڈیسک): اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے 26 ویں آئینی ترمیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد…

October 21, 2024
دنیا

بھارتی ریاست منی پور میں حکومتی کریک ڈاؤن کے باعث احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

(ویب ڈیسک ):بھارتی ریاست منی پور میں حکومتی کریک ڈاؤن کے باعث احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے، منی پور…

May 4, 2023
پاکستانکھیل

پاکستان اپنی کرکٹ ٹیم بھارت بھیجنے کو تیار ہے، بھارت بھی ٹیم بھیجے: احسن اقبال

اسلام آباد (اسپورٹس ڈیسک): وفاقی وزیر احسن اقبال کاکہنا ہے کہ بھارت کو چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان اپنی ٹیم…

April 27, 2024
Nijat News

فہرست

  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ

 

  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ

 

  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز

فہرست

  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ

© 2022 Nijat News.  All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?