حیدرآباد (ویب ڈیسک): سندھو دریا پر کینال بنانے کے منصوبے کے خلاف سندھ ترقی پسند پارٹی کی کال پر سکرنڈ بائی پاس نیشنل ہائی وے پر ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی کی قیادت میں دھرنا دیا گیا۔ دھرنے کی وجہ سے آنے جانے والی ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ احتجاجی دھرنے میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے کارکنوں، خواتین، مردوں اور بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ اس ملک کی معیشت میں بڑا حصہ دار ہے، ملک کی معیشت کی شہ رگ سندھ ہے اور اسی طرح سندھو دریا سندھ کی شہ رگ ہے جس کے پانی سے نہ صرف زمینیں آباد ہوتی ہیں بلکہ سندھ کا انسان، جانور اور ہر جاندار سندھو کے پانی پر زندہ ہے۔ اگر سندھو دریا سندھ سے کاٹ لیا گیا تو سندھ نہ صرف بنجر بن جائے گا بلکہ اجتماعی قبرستان بن جائے گا۔ سندھو دریا ایک عظیم تہذیب، ثقافت اور تاریخ کا وارث ہے۔ ایک سازش کے تحت سندھ سے سندھو کا پانی نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ماضی سے سبق لینا چاہیے۔ ماضی میں جنرل ضیاء، مشرف اور نواز شریف سمیت جو بھی آمر اور حکمران تھے، انہوں نے کلا باغ ڈیم کے منصوبے کے ذریعے سندھو کا پانی نکالنے کی سازش کی، لیکن وہ ناکام ہوئے۔ آج بھی سندھ کے لوگ سندھو دریا پر کسی بھی قسم کا حملہ قبول نہیں کریں گے۔ سندھ کے پانی کے مسئلے پر جو معاہدے ہوئے تھے، ان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ 1991 کے معاہدے کے مطابق بارہ مہینے ڈاؤن اسٹریم میں پانی چھوڑا جائے گا، لیکن وہ پانی نہیں دیا جا رہا جس کی وجہ سے انڈس ڈیلٹا مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور سمندر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سندھ کے ساتھ مسلسل زیادتیاں کی جا رہی ہیں۔
ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے مزید کہا کہ پی پی پی حکومت ڈرامے بازی بند کرے اور وفاقی حکومت جس کے کندھوں پر کھڑی ہے، اگر وہ سندھو کے مسئلے پر خاموش رہی تو سندھ اسے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاجی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک سندھو دریا پر کینال بنانے کا منصوبہ ختم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ 24 نومبر کو پورے سندھ میں احتجاج کیا جائے گا، سندھ کے لوگ اس دن اپنے سندھو دریا کی وارثی کے لیے احتجاجی مظاہرے کر کے حکمرانوں کو پیغام دیں گے کہ سندھ کسی بھی صورت میں سندھو دریا پر حملہ قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ 8 دسمبر کو سندھی قوم کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو کر قومی یکجہتی کا ثبوت دے گی۔ اس موقع پر ایس ٹی پی کے رہنماؤں حیدر شاھانی، نثار کھیریو، ہوت خان گاڑھی، ڈاکٹر عبدالحمید میمن، گلزار سومرو، ڈاکٹر احمد نوناری، امتیاز سموں، ڈاکٹر سومار مگسیو اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔