اسلام آباد (ویب ڈیسک): وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہےکہ ثالثی اور پنچایت سپریم کورٹ کا کام نہیں، سپریم کورٹ کا کام قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کیلئے اکتوبر، نومبر کی تاریخ بنتی ہے، اتحادیوں کا متفقہ فیصلہ ہے الیکشن اکتوبر میں ہونے چاہئیں، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو پارلیمان نے قبول نہیں کیا، پارلیمنٹ آج بھی سمجھتی ہے کہ فیصلہ چار تین کا ہے تین دو کا یا پانچ دو کانہیں،گفتگو کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہیے،گفتگو کا فارمیٹ کیا ہوگا بیٹھ کر فیصلہ کرسکتے ہیں، پارلیمانی کمیٹی اس معاملے میں گنجائش پیدا کرسکتی ہے، پی ٹی آئی نے ملک میں انتشار پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، زہر گھولا گیا، افواج پاکستان کو بھی نہیں چھوڑا، بیرون ملک پی ٹی آئی کے ایجنٹس نے گھناؤنا کردار ادا کیا۔
اتحادی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے چیلنجز کو ڈیل کیا ہے، صورتحال حکومت کے لیے ابھی بھی چیلنجنگ ہے، پارلیمنٹ نے تین رکنی بینچ کے فیصلے کو قبول نہیں کیا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمان کا مؤقف ہےکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تین چار کا ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن کے فنڈز سے متعلق جواب مانگا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے فیصلےکا احترام کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ثالثی اور پنچایت سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے، سپریم کورٹ کا کام قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرنا ہے، الیکشن کے لیے اکتوبر یا نومبر کی تاریخ بنتی ہے، اتحادی حکومت نے آخری کوشش کی کہ سب ایک الیکشن پر متفق ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے امریکا پر سازش کا الزام لگا کر ڈھٹائی اور بیشرمی سے یوٹرن لیا ہے، پاکستان سے باہر پی ٹی آئی کے چند ایجنٹس نےگھناؤنا کردار ادا کیا۔
انہوں نےکہا کہ ہمیں گفتگو کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہیے،گفتگو کا فارمیٹ کیا ہوگا بیٹھ کر فیصلہ کرسکتے ہیں، پارلیمانی کمیٹی اس معاملے میں گنجائش پیدا کرسکتی ہے، اتحادی جماعتوں نے الیکشن کی ایک تاریخ پر کوشش کی، انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔
جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حکمران اتحاد کے اجلاس میں توہین پارلیمنٹ پر 3 شخصیات کو طلب کرنے سمیت اہم فیصلے کیے گئے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی صورت حال اور پنجاب میں الیکشن کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں جو اہم فیصلے ہوئے وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے، قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شریک ہوں گے۔
ذرائع کا بتانا ہے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے جس رقم کا مطالبہ کیا رہا تھا ایوان اس پر غور کرے گا، پہلے بھی قومی اسمبلی دو مرتبہ اس معاملے کو مسترد کر چکی ہے اور توقع یہی ہے کہ ایک بار پھر قومی اسمبلی پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے رقم کی فراہمی کے مطالبے کو مسترد کر دے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں شریک ارکان قومی اسمبلی کی طرف سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ 3 افراد مسلسل پارلیمنٹ کی توہین کر رہے ہیں، ارکان آج بہت جذبات ہیں اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں تجویز پیش کریں گے کہ ان تینوں افراد کو قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی میں طلب کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو گا کہ اس طرح کی شخصیات کو استحقاق کمیٹی طلب کرے گی اور ان سے پوچھا جائے کہ وہ کیوں پارلیمنٹ کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے توقع ہے کہ جب اراکین کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئے گی تو اس معاملے کو فوری طور پر استحقاق کمیٹی کے روبرو پیش کر دیا جائے گا اور کمیٹی اپنے اجلاس میں فیصلہ کرے گی کہ آئندہ 24 گھنٹے کے اندر اندر ان شخصیات کو کب طلب کرنا ہے، اس طریقے سے یہی توقع ہے کہ اس معاملے کا ڈراپ سین ہونے جا رہا ہے۔