حیدرآباد (ویب ڈیسک) : سندھ ترقی پسند پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں 22 ستمبر کو ہونے والی قومی کانگریس کی تیاریوں کو آخری شکل دی گئی، جہاں سندھ بھر سے 458 نمائندے شرکت کریں گے۔اجلاس میں ڈاکٹر مگسی نے کہا کہ سندھ اس وقت انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے، جہاں نئے ڈیم اور نہریں بنا کر سندھ کے پانی کو چوری کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے وقت میں سندھ میں ایک مضبوط اور منظم عوامی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ساری سندھ کو جاگرتا کیا جائے گا اور ان سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ صدیوں سے امن، محبت اور رواداری کا درس دینے والی سرزمین رہی ہے۔ سندھ میں جو انتہاپسندی بڑھ رہی ہے، اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، جو ایسی حالات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے عمرکوٹ واقعے کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے قانون اور عدالتوں سے بالاتر قتل قابل مذمت ہے۔ اگر کسی فرد پر کوئی الزام ہے تو اسے ملکی قانون کے تحت عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں آج ہونے والی قومی کانگریس کو کامیاب اور فائدے مند بنانے کے لیے مختلف تجاویز اور آراء پیش کی گئیں، جن کے مدنظر مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔
اجلاس میں جام عبدالفتاح سمیجو، حیدرشاہانی، حیدر ملاح، ڈاکٹر سومار مڱریو، عاشق سولنگی، قادر چنا، امتیاز سموں، نثار کیریو، ڈاکٹر عبدالحمید میمن، ہوت خان گاڑھی، جام شوکت ابڑو، گوتم چنا، ڈاکٹر احمد نوناری، خیر محمد مگسی، ڈاکٹر مظہر میمن، اعجاز سندھی اور دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس نے سندھ دریائے بچاؤ تحریک کے حیدرآباد کے جلسے سے واپسی پر ایس ٹی پی کارکنوں پر قاتلانہ حملے میں شہید ہونے والے امتیاز ایری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایس ٹی پی کارکنوں پر حملہ کرنے والے جگنو میمن کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے، ورنہ بصورت دیگر پورے سندھ میں سخت احتجاج کیا جائے گا۔