کراچی (اسپورٹس ڈیسک): بروک لیسنر ایسے مقبول ترین ریسلر ہیں جو مکسڈ مارشل آرٹس کمپنی یو ایف سی بھی سرگرم رہے ہیں۔اب یو ایف سی کے سابق ہیوی ویٹ چیمپئن ڈینیئل کوریمر نے انکشاف کیا ہے کہ بروک لیسنر کو ‘بین لسٹ’ میں شامل کیا گیا ہے۔اگر یہ بات واقعی درست ہے تو یہ ممکنہ طور پر بروک لیسنر کے ریسلنگ کیرئیر کا اختتام بھی ہے۔ایک انٹرویو کے دوران ڈینیئل کوریمر نے اس خیال کو مسترد کیا کہ وہ ڈبلیو ڈبلیو ای رنگ میں بروک لیسنر کا مقابلہ کرنے والے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بروک لیسنر کا نام بین لسٹ میں ہے، مگر یہ وضاحت نہیں کی کہ ایسا ڈبلیو ڈبلیو ای، یو ایف سی یا دونوں کی سرپرست کمپنی ٹی کے او میں سے کس کی جانب سے کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ای کو یو ایف سی نے خرید لیا تھا اور پھر ایک سرپرست کمپنی ٹی کے او کو قائم کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘بروک ابھی بین لسٹ میں شامل ہیں، وہ بہت زیادہ مشکل میں ہیں، میں یہاں آپ کو نہیں بتاسکتا کہ بروک لیسنر نے کیا کیا، مگر وہ بہت زیادہ مشکل میں ہیں’۔
اب بروک لیسنر کی ڈبلیو ڈبلیو ای میں جلد واپسی مشکل نظر آتی ہے کیونکہ ڈبلیو ڈبلیو ای یا ٹی کے او میں سے جس نے بھی انہیں بین کیا ہو، ان کا کیرئیر متاثر ہوگا۔
آخری بار بروک لیسنر ڈبلیو ڈبلیو ای کے رنگ میں اگست 2023 میں نظر آئے تھے جب انہوں نے سمر سلیم ایونٹ میں روڈی رہوڈز نے مقابلہ کیا تھا۔
بعد میں خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ جنوری 2024 میں رائل رمبل مقابلے میں واپسی کریں گے مگر ایسا نہ ہوسکا کیونکہ ڈبلیو ڈبلیو ای کی ایک سابق خاتون عہدیدار Janel Grant نے ڈبلیو ڈبلیو ای کے سابق چیئرمین ونس میکموہن کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
ابتدا میں بروک لیسنر کا نام مقدمے میں واضح نہیں تھا مگر یہ مانا جاتا تھا کہ وہ بھی اس کے اہم فریق ہیں، فروری 2025 میں ان کا نام مقدمے کا حصہ بنا دیا گیا۔
اس مقدمے کے بعد سے ڈبلیو ڈبلیو ای اور ٹی کے او کی جانب سے بروک لیسنر کی رنگ میں واپسی کے منصوبے کو ترک کر دیا گیا۔