ریاض (ویب ڈیسک): سعودی عرب اور دی آرگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز (اوپیک) اتحادی ممالک نے تیل پیداوار میں کمی کا اعلان کردیا۔خبرایجنسی کے مطابق اوپیک اتحادی ممالک 1.15 ملین بیرل کٹوتی کریں گے، اوپیک اتحادی ممالک نےتیل کی عالمی منڈی میں استحکام کیلئے پیداوارمیں کمی کا فیصلہ کیا۔
BREAKING: Saudi Arabia will cut oil production by 500,000 barrels a day from May to December in coordination with some other OPEC and non-OPEC countries https://t.co/nqcXB5MYOm
— Bloomberg (@business) April 2, 2023
سعودی خبررساں ایجنسی نے بتایا کہ سعودی عرب نے یکم مئی سے تیل کی پیداوار پانچ لاکھ بیرل یومیہ کم کرنے کا اعلان کیا، سعودی عرب کی جانب سے تیل کی پیداوار میں پانچ لاکھ بیرل یومیہ کی کٹوتی سال کے آخر تک جاری رہے گی۔
اس کے علاوہ اویپک میں شامل متحدہ عرب امارات، کویت، عمان، عراق اور الجیریا نے بھی تیل کی پیداوار میں رضاکارانہ طور پرکمی کا اعلان کیا۔
عراق نے 2 لاکھ 11 ہزار بیرل، امارات نے ایک لاکھ 44 ہزار بیرل، کویت نے ایک لاکھ 28 ہزار، الجیریا نے 48 ہزار اور عمان نے 40 ہزار بیرل یومیہ تیل کی پیداوار میں کمی کریں گے اور یہ کمی رواں سال کے آخر تک جاری رہے گی۔
All of the announced oil cuts today by OPEC and non-OPEC are 1.649 million bpd.
Russia 500k bpd
Saudi Arabia 500k
Iraq 211k
UAE 144k
Kuwait 128k
Kazakhstan 78k
Algeria 48k
Oman 40k pic.twitter.com/hNuE3h8BeN
— Wall Street Silver (@WallStreetSilv) April 2, 2023
اس کے علاوہ روسی ڈپٹی وزیراعظم نے بھی تیل کی پیداوار میں رواں سال کے آخر تک پانچ لاکھ بیرل یومیہ کمی کا اعلان کیا ہے۔
سعودی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی اوپیک اور نان اوپیک ممبر ممالک سے مل کر کر رہے ہیں۔
OPEC+ surprises with voluntary cuts of 1.15m bpd starting in Mayhttps://t.co/WCi79yBcKr
— Nikkei Asia (@NikkeiAsia) April 2, 2023
دوسری جانب خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ سعودی فیصلے سے عالمی مارکیٹ میں تیل مزید مہنگا ہوجائے گا اور سعودی عرب کے فیصلے ریاض اور واشنگٹن کے تعلقات میں سرد مہری بڑھنے کا خدشہ ہے، یوکرین جنگ کے باعث پہلے ہی تیل کی عالمی قیمتیں بلند ہیں۔