حیدرآباد (ویب ڈیسک): سندھ ترقی پسند پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی، کرپشن اور وسائل کے قبضوں کی ذمہ دار پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جو ہمیشہ اپنے اقتدار کی قیمت سندھ کی زمینوں اور وسائل کو فروخت کر کے ادا کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی کو عوام نہیں بلکہ کرسی عزیز ہے اور وہ اس کرسی کے لئے ہر کچھ کرنے کو تیار ہے۔ سندھ کے اوپر مصیبت بنے جاگیردار اور سردار جو انگریزوں کے دور سے لے کر سندھ کے قومی اجتماعی مفادات کے خلاف اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے آ رہے ہیں، آج وہ سب پیپلز پارٹی کے چھتری تلے جمع ہو کر سندھ کے خلاف فیصلے کر رہے ہیں.
ایس ٹی پی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے مزید کہا کہ سندھ میں جان بوجھ کر جرگے کرائے جا رہے ہیں تاکہ سرداری نظام کو اور مضبوط کیا جائے۔ جرگے ملکی عدالتوں کے دیے گئے فیصلوں کے مطابق مکمل غیر قانونی ہیں اور ان کا سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے۔ ایس ٹی پی نے ہمیشہ جاگیرداری اور سرداری نظام کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ ماضی میں بھی ایس ٹی پی نے جاگیرداروں کو للکار کر ان کی نجی جیلیں توڑ کر ہزاروں قیدی ہاریوں کو آزاد کرایا تھا۔ اب بھی ایس ٹی پی ان تمام برائیوں کے خلاف بھرپور سیاسی جدوجہد کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت ڈیجیٹل مردم شماری کرائی گئی جس پر سندھ نے شروع میں ہی اعتراض کیا تھا کہ یہ مردم شماری کے نام پر دھوکہ ہے۔ اب جو شماریات کے اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں وہ مکمل جھوٹے ہیں جنہیں ہم مسترد کرتے ہیں۔ سندھ میں سندھی بولنے والوں کی تعداد کم دکھائی گئی ہے، اسی طرح کراچی شہر میں 45 سے 50 لاکھ سندھی بولنے والے موجود ہیں جنہیں کم کر کے 22 لاکھ 60 ہزار دکھایا گیا ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد موجود ہے جنہیں کم کر کے دکھایا گیا ہے، یہ تمام چالیں سندھیوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ آنے والے وقت میں دیہی علاقوں کی نشستیں کم کر کے کسی غیر سندھی کو وزیر اعلیٰ کے منصب پر بٹھانے کی سازش کی جائے گی۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ تین سال سے قید معصوم بچی پریا کماری کو آزاد کر کے وارثوں کے حوالے کیا جائے۔ اجلاس میں کارسر پہاڑ کے نام پر کارونجھر کو کاٹنے، سندھ کی زمینوں پر مختلف منصوبوں اور پروگراموں کے نام پر قبضے کو غیر قانونی قرار دے کر اسے روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 28 جولائی کو سندھ کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں سندھ کی زمینوں پر مختلف پروگراموں اور منصوبوں کے نام پر قبضے، کارسر کے نام پر کارونجھر کی کٹائی، کینجھر، گورکھ اور دیگر تاریخی مقامات پر قبضے، ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر جھوٹے اعداد و شمار، سندھ میں پانی کی کمی اور سندھ پر غیر قانونی کینال کی تعمیر، اور پریا کماری کی بازیابی نہ کرانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ 27 اکتوبر کو کراچی میں یوم شہداء کا جلسہ منعقد کیا جائے گا جس کی صدارت ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی کریں گے۔
اجلاس میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین جام عبدالفتاح سمیجو، حیدر شاہانی، حیدر ملاح، ڈاکٹر سومار منگریو، عاشق سولنگی، قادر چنا، نثار کیریو، ڈاکٹر عبدالحمید میمن، ہوت خان گاڈھی، ڈاکٹر احمد نوناری، جام شوکت ابڑو، گوتم چنا، خیر محمد مگسی، ڈاکٹر مظہر میمن، اعجاز سندھی اور دیگر نے شرکت کی۔