پاپولر

’فیفا ورلڈ کپ 2022‘ کا آفیشل گانا ’لائٹ دی اسکائے‘ ریلیز

فیڈریشن انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن‘ (فیفا) کے عالمی ورلڈ کپ 2022 کا آفیشل گانا ’لائٹ دی اسکائے‘ ریلیز کردیا…

بھارت میں سونے کے سکے نکالنے والی پہلی ’اے ٹی ایم‘ متعارف

بھارت میں پہلی بار سونے کے سکّے دینے والی آٹو میٹڈ ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) متعارف کروادی گئی، مشین…

جنرل باجوہ کے NRO II میں تما گندے عناصر کو “ڈرائی کلین” کر دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ "کرپٹوں کے گروہ" کو قومی مصالحتی آرڈیننس…

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی۔ وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پیٹرول کی قیمت میں 10…

واٹس ایپ ویڈیو کالنگ میں 32 افراد کو شامل کرنا ممکن

دنیا کی سب سے بڑی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے ویڈیو کالنگ کے مزید فیچر متعارف کراتے ہوئے…

عمران خان کو ایک اور مشکل کاسامنہ ، ق لیگ کا نیامطالبہ

لاہور: مسلم لیگ ق نے اسمبلی تحلیل کرنے کے عوض اگلا وزیراعلیٰ بھی اپنی جماعت سے لینے کا مطالبہ کردیا۔…

گلشن حدید کے قریب کوچ کا 3 افراد کو کچلنےکا واقعہ دب گیا، پولیس خاموش تماشائی بن ہوئی ہے

کراچی (ویب ڈیسک):گلشن حدید کے قریب کوچ کا3 افراد کو کچلنےکا واقعہ دب گیا، پولیس خاموش تماشائی بن ہوئی ہے.…

لیاری یونیورسٹی کے رجسٹرار کی تقرری کا اشتہار سینڈیکیٹ کی منظوری سے شائع کیا گیا؛ افواہیں بدنیتی پر مبنی ہیں؛ پی آر او

کراچی (ویب ڈیسک): بےنظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے پی آر او نے یونیورسٹی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حال ہی میں لیاری یونیورسٹی کے رجسٹرار کی تقرری کے لیے ایک باقاعدہ اور قانونی اشتہار جس کی منظوری سینڈیکیٹ سے لی گئی تھی اخبارات میں شائع کیا گیا مگر بدقسمتی سے، کچھ عناصر جنہیں لیاری کی ترقی پسند نہیں، انہوں نے اشتہار کو بدنیتی سے غلط انداز میں پیش کیا، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ لیاری کے طلبہ و طالبات ملک کے دیگر طلبہ کے ساتھ مقابلہ کریں۔ یہ عناصر سازشوں میں ملوث ہو کر شفافیت پر حملہ آور ہوئے۔ جو لوگ اس پروپیگنڈے میں شامل ہیں یا جو قانون کے خلاف کام کر رہے ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اعلامیہ میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ اشتہار اردو، سندھی اور انگریزی اخبارات میں شائع کیا گیا تھا، جس میں محکمہ اطلاعات کا منظور شدہ نمبر بھی درج ہے۔ یہ تمام سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر موجود ہے اور ہر جگہ اس کی توثیق ہو چکی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اس بے بنیاد پروپیگنڈے کی سختی سے تردید کرتی ہے اور یونیورسٹی واضح طور پر اس کا نوٹس لیتی ہے۔

خاص آپ کے لیئے

پاکستان