پاپولر

’فیفا ورلڈ کپ 2022‘ کا آفیشل گانا ’لائٹ دی اسکائے‘ ریلیز

فیڈریشن انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن‘ (فیفا) کے عالمی ورلڈ کپ 2022 کا آفیشل گانا ’لائٹ دی اسکائے‘ ریلیز کردیا…

بھارت میں سونے کے سکے نکالنے والی پہلی ’اے ٹی ایم‘ متعارف

بھارت میں پہلی بار سونے کے سکّے دینے والی آٹو میٹڈ ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) متعارف کروادی گئی، مشین…

جنرل باجوہ کے NRO II میں تما گندے عناصر کو “ڈرائی کلین” کر دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ "کرپٹوں کے گروہ" کو قومی مصالحتی آرڈیننس…

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی۔ وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پیٹرول کی قیمت میں 10…

واٹس ایپ ویڈیو کالنگ میں 32 افراد کو شامل کرنا ممکن

دنیا کی سب سے بڑی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے ویڈیو کالنگ کے مزید فیچر متعارف کراتے ہوئے…

عمران خان کو ایک اور مشکل کاسامنہ ، ق لیگ کا نیامطالبہ

لاہور: مسلم لیگ ق نے اسمبلی تحلیل کرنے کے عوض اگلا وزیراعلیٰ بھی اپنی جماعت سے لینے کا مطالبہ کردیا۔…

ایمازون کے بانی کی انسانیت کے مستقبل کے بارے میں حیران کن پیشگوئی

روم (ٹیک ڈیسک): ایمازون کے بانی جیف بیزوز دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں جو 244 ارب…

چین میں بچے کے نام پر اتفاق نہ ہونے پر والدین نے طلاق کا مقدمہ دائر کردیا

شنگھائی (ویب ڈیسک): چین کے صوبہ شنگھائی میں ایک انوکھا مقدمہ سامنے آیا جہاں ایک جوڑے نے بچے کے خاندانی نام (surname) پر اتفاق نہ ہونے کے باعث عدالت میں طلاق کا کیس دائر کر دیا۔تفصیلات کے مطابق شوہر کا مطالبہ تھا کہ بچے کو اُس کے خاندان کا نام دیا جائے جیسا کہ چین میں صدیوں سے روایت رہی ہے۔ بیوی چاہتی تھی کہ بچے کو اُس کے خاندان کا نام دیا جائے تاکہ عورت کے خاندان کی شناخت بھی آگے بڑھے۔ دونوں فریق اپنے مؤقف پر سختی سے ڈٹے رہے اور صلح نہ ہو سکی جس کے بعد طلاق کا معاملہ عدالت پہنچ گیا۔ شنگھائی کی عدالت نے ماں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے بچوں کی کفالت ماں کو دے دی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ بچے کے بہتر مفاد اور پرورش کو مدِنظر رکھنا والدین کی انا سے زیادہ اہم ہے۔ اگرچہ چین میں روایتی طور پر بچوں کا خاندانی نام ہمیشہ والد کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں زیادہ سے زیادہ جوڑے بچوں کو ماں کا خاندانی نام دینے لگے ہیں، خاص طور پر دوسری یا تیسری اولاد کے ساتھ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی چین میں خاندانی نظام اور صنفی برابری کی بڑھتی ہوئی سوچ کی عکاس ہے۔

خاص آپ کے لیئے

دلچسپ و عجیب