اسلام آباد (ویب ڈیسک): تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہمارا سپیکر حوالدار ہے اور جیل میں ایک کرنل بیٹھا ہے، ان کو تو ہم اسمبلی نہیں بلوا سکتے لیکن جیلر کو اگر اسمبلی نہ بلوایا گیا تو ہم اسمبلی نہیں چلنے دیں گے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپیکر نے صرف مخصوص مواقع پر اختیارات استعمال کیے، اصول سب کے لیے برابر ہونے چاہئیں، ایاز صادق کو صرف مخالفین کے خلاف اپنی اتھارٹی یاد آتی ہے، یہ ماضی میں نواز شریف کے ساتھ جلوسوں میں شامل رہے، نواز شریف اور مریم نواز سے جیل ملنے گیا وہاں نواز شریف سے جلوس ملنے آتے تھے، بیس بیس لوگوں کے جلوس ملنے آتے تھے، میں نواز شریف سے مل رہا تھا وہاں پر جلسہ ہو رہا تھا، جیل میں اتنے لوگ ملتے تھے ان ملاقاتیوں میں آج کا حوالدار سپیکر بھی ہوا کرتا تھا۔
محمود خان اچکزئی کہتے ہیں کہ بندوق کے زور پر جو تماشہ خیبرپختونخواہ میں شروع کیا گیا ہے، اگر اس سے لوگوں اور افواج کے درمیان خانہ جنگی چھڑی، تو شہباز تم اور تمہارے ساتھی اس سب کے ذمہ دار ہوں گے، معدنیات کی وجہ سے بندوق کے زور پر ہمارے علاقے خالی کروائے جا رہے ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی عوام کو منظم کیا جائے، اس غیر آئینی حکومت کے خلاف جو پاکستان کی عوام پر مسلط ہے، پاکستان کے ہر مکتبہ فکر سے درخواست ہے کہ ہمارے ساتھ سب متحد ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ صورتحال خانہ جنگی کی طرف گئی تو ذمہ دار شہباز شریف ڈیڑھ خان ہوں گے، اتنی اپروچ جرنیل کی غلط نہیں ہے جتنی اپروچ ڈیڑھ خان شہباز شریف کی ہے شہباز شریف سن لو ہم جمہوری جدوجہد کرنے جا رہے ہیں، پیپلز پارٹی ن لیگ مولانا اپنے نکات کے آئیں ہم دستخط کر دیتے ہیں بھائی بندی قائم کریں اگر حکومت ہماری پرامن جدوجہد کو دبائے گی تو خدانخواستہ پرامن تحریک دوسرے راستے کی طرف گئی تو ذمہ داری حکومت کی ہو گی۔