کراچی (ویب ڈیسک):گلشن حدید کے قریب کوچ کا3 افراد کو کچلنےکا واقعہ دب گیا، پولیس خاموش تماشائی بن ہوئی ہے. ہفتہ گزرنے کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ کوچ کا ڈرائیور جائے حادثہ سے فرار ہے۔ 25.2.2025 کو گلشن حدید تاج پٹرول پمپ کے قریب یو ٹرن پر منظور چانڈیو اپنے دو معصوم بچوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر کھڑا تھا کہ تیز رفتار کوچ نے انہیں کچل دیا۔4 سالہ بیٹا عثمان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ 6 سالہ بیٹی مدیحہ اور منظور چانڈیو خود شدید زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال لے جایا گیا.
زخمی منظور چانڈیو کی حالت تشویشناک اور 3 دن سے وینٹی لیٹر پر ہیں، پولیس کی جانب سے کیس میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق منظور چانڈیو اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ سڑک عبور کرنے کے لیے کھڑا تھا کہ کراچی سے کشمور جانے والی کوچ نمبر JC 9095 کے شرارتی ڈرائیور نے اسے زور دار ٹکر مار دی۔ جس کے نتیجے میں معصوم عثمان موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ جبکہ منظور اور ان کی بیٹی شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر جناح ہسپتال کراچی لے جایا گیا۔رشتہ داروں نے فوری طور پر سرجری کروائی اور بچی کو 4 دن بعد ہوش آیا تاہم منظور کوما میں رہے اور گزشتہ 3 روز سے وینٹی لیٹر پر ہیں اور ان کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہے۔
منظور کے بھائی عبدالرزاق کی شکایت پر 26.2.2025 کو اسٹیل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ آج تک پولیس نے کوئی گرفتاری نہیں کی۔ کیا یہ بدمعاش کوچ اور ٹرالر والے یونہی معصوم بچوں کو مارتے رہیں گے اور لوگوں کے گھر اجاڑتے رہیں گے؟منظور چانڈیو جو اس وقت اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا تھا دن بدن کمزور ہوتا جا رہا تھا اب گذشتہ 3 دن سے وینٹی لیٹر پر شفٹ ہوچکے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔