ٹھٹہ (ویبڈیسک): ہالیجی جھیل کے قریب قائم اے وائی کمپنی کی انتظامیہ نے زبردستی، مقامی باشندوں کی سڑکیں اور راستے بلاک کر کے ان کی زندگیاں مشکل بنا دی ہیں، اور اب انہیں ان کے اپنے گاؤں سے بے دخل کرنے اور ان کے گاؤں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ علاقہ مکین سخت پریشان، متاثرین کی فریاد اور انصاف کا مطالبہ. اس حوالے سے ہالیجی جھیل کے قریب گاؤں محمد قاسم میر بحر کے رہائشی شیر محمد میر بحر نے صحافیوں کے سامنے کمپنی پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا گاؤں محمد قاسم میر بحر پاکستان بننے سے پہلے بھی آباد تھا۔ مگر اےوائی کمپنی کی انتظامیہ نے گاؤں کے قریب زمین خرید کر اب مقامی لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔مقامی باشندوں کو غیر معقول طور پر ہراساں کرنے اور ان کی سڑکیں بلاک کرنے کے بعد اب وہ انہیں اپنے ہی گاؤں اور گھروں سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں اور ان کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
محنت کش شیر محمد میر بحر نے کہا کہ ان کا ذریعہ معاش ماہی گیری سے اپنے بچوں کی کفالت ہے لیکن مذکورہ کمپنی کی انتظامیہ ہم سے روزگار کا یہ حق بھی چھین کر ہمیں بھوک اور بدحالی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے لیکن ہم کسی صورت اپنے گھر اور گاؤں خالی نہیں کریں گے۔
شیر محمد میربحر نے کہا کہ اس سے قبل مذکورہ کمپنی کی انتظامیہ نے سینکڑوں ایکڑ سرکاری اراضی، محکمہ سیاحت کا ایک بنگلہ سمیت بڑے رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے جس سے مقامی لوگوں کا جینا محال ہو گیا ہے اور یہاں تک کہ پانچ مقامی دیہات کی واٹر سپلائی لائن پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ لیکن کوئی بھی اس قابض کمپنی کی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، ٹھٹھہ کے ڈی سی اور تمام اقتدار میں رہنے والوں سے اپیل کی کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے، انہیں ان کے اپنے گاؤں سے زبردستی بے دخل ہونے سے بچایا جائے اور کمپنی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کرکے انہیں پریشانی سے بچایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے، انہیں اے وائی کمپنی انتظامیہ کی زیادتیوں سے نجات دلائی جائے اور کمپنی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔کیونکہ اس نے زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے جس میں سرکاری زمینیں اور سرکاری بنگلے بھی شامل ہیں، انہیں فوری طور پر خالی کرایا جائے اور اسے یہاں سے بے دخل کیا جائے تاکہ مقامی لوگ سکون کی سانس لے سکیں۔